یورپی ملک سویڈن میں پناہ کے حصول کے لیے پچھلے پچیس دن سے بھوک ہڑتال اور دھرنا دینے والے درجنوں فلسطینیوں کی حالت غیر ہونے کے بعد انہیں اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ درجنوں افراد احتجاجی دھرنا بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سویڈن میں پناہ کےحصول کے لیے کوشاں فلسطینی مظاہرین کے ترجمان مہیب ابو جزر نے بتایا کہ پچھلے 25 دن سے 96 شہریوں نے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ ان تمام شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سویڈن حکومت انہیں دیگر تارکین وطن کے برابر شہری حقوق فراہم کرے اور انہیں باضابطہ پناہ گزین کا درجہ دے۔ مہیب جزر نے بتایا کہ مظاہرین میں 95 فی صد افراد کاتعلق فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے ہے جو پچھلے سال غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران نقل مکانی کرکے سویڈن پہنچے تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ سویڈن کے مامو شہر میں جاری بھوک ہڑتال اور دھرنے کے باعث گذشتہ روز 33 پناہ گزین بے ہوش ہوگئے جس کے بعد انہیں اسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔ پناہ گزینوں میں پانچ فی صد کا تعلق شام سے بتایا جاتا ہے۔
پناہ کامطالبہ کرنے والے شہریوں کے ترجمان نے کہا کہ سویڈن حکومت کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی ایک پرامن جگہ ہے اور وہاں کے شہریوں کو پناہ نہیں دی جا سکتی ہے۔
