(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ )مشرق وسطی میں موجود مہاجرین میں تعلیم اور شعور اضافے کے لیے کام کرنے والی تنظیم انیرہ نے شاندار کارنامہ سر انجام دے دیا۔نیلن نامی گاوں میں فلسطینی بچوں کے لیے اسکول کی تعمیر مکمل کرلی۔
تفصیلات کے مطابق مشرق وسطی میں موجود مختلف ممالک کے مہاجرین کی فلاح و بہود کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم انیرا نے نیلن نامی قصبے میں ایک اسکول کی تعمیر مکمل کر لی جہاں فلسطینی بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا حصول ممکن ہو سکے گا۔
Yesterday was a great day! With generous support from the Stengel family, we were able to complete construction and open a new #preschool 🏫 in Ni’lin, #Palestine. The new school will benefit hundreds of #children in the community. #Nilin #education pic.twitter.com/elGW7YChM1
— Anera (@AneraOrg) July 5, 2019
اس اسکول کے قیام سے انیرا کو فلسطینی بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے خواب کی تعبیر میں مدد ملے گی،جہاں سے فلسطینی بچے تعلیم حاصل کر کے اپنے لیے ایک بہتر مستقبل تلاش کر سکیں گے۔
اسکول کا افتتاح گزشتہ ہفتے جمعرات کے روز ہوا،افتتاحی تقریب میں نائب وزیر تعلیم،قصبے کے میئر اور قصبے کی کونسل کے ارکان نے بھر پور شرکت کی اور انیرا کے اسٹاف کو اس شاندار کارنامے پر بھر پور سراہا۔
انیرا کے تعلیمی پروگرام کے مینیجر سلیمان ملاحت کا کہنا تھا کہ اسکول یکم ستمبر سے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کرے گا ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اسکول فلاحی اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان تعاون کا بہترین نمونہ ہے۔
انہوں نے اس بارے میں تفصیل بتائے ہوئے کہا کہ اسکول کی لیے زمین مقامی لوگوں کی جانب سے عطیہ کی گئی ہے جب کہ وزارت تعلیم نے اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی زمہ داری لے گا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اقوام متحدہ نے ہمیں دی جانے والی امداد کا بڑا حصہ کٹوتی میں شامل کر لیا ہے لیکن ہم اپنے تمام منصوبے مخیر حضرات کی امداد سے مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
انہوں نے رواں سال اگست تک مزید پانچ اسکول مکمل ہو جانے کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ اسکول بنانے کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔
