فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی مظالم کے شکار فلسطینی قیدی سامی جنازرہ کے بارے میں سامنے آنے والی تازہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل باون روزہ بھوک ہڑتال کے نتیجے میں اس کا وزن کم ہو کر 52 کلو گرام رہ گیا ہے۔ بھوک ہڑتال اور جسمانی نقاہت کے نتیجے میں اس کا بلند فشار خون انتہائی بلند رہنے لگا اور وہ بار بار بے ہوش ہو کر گر پڑتے ہیں۔
خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے الفوار کیمپ سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ فلسطینی سامی جنازہ گذشتہ باون دن سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پچھلے سال 15 نومبرکو انہیں صہیونی حکام کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد انتظامی قید میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف 50 دن سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا ہے کہ جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی پرکئی بارغشی کے دورے پڑ چکے ہیں۔ حالت تشویشناک ہونے کے باوجود نہ تو انہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے مطالبات پرغور کیا جا رہا ہے۔
