(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ملٹری پراسیکیوٹر نے فوجی عدالت میں پیش کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ تین ہفتے قبل مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں ایک زخمی فلسطینی بچے کو گولیاں مار کر شہید کرنے میں ملوث اسرائیلی فوجی اہلکار پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ. کے مطابق اسرائیلی پراسیکیوٹر اڈورم ریگلیر نے جمعرات کے روز فوجی عدالت میں جمع کرائے بیان میں کہا ہے کہ استغاثہ اسرائیلی فوجی اہلکار کو فلسطینی لڑکےعبدالفتاح الشریف کے قتل میں قصور وار سمجھتا ہے کیونکہ فوجی اہلکار نے فلسطینی لڑکے کو اس وقت گولیاں ماری تھیں جب وہ پہلے ایک دوسرے فوجی کی فائرنگ سے شدید زخمی تھا اور حرکت تک نہیں کرسکتا تھا۔تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پراسیکیوٹر کی جانب سے فرد جرم کی بات مبہم ہے کیونکہ یہ واضح نہیں کہ آیا فلسطینی لڑکے کے قاتل کو آئین کی کس شق کے تحت فرد جرم سنائی جائے گی۔
البتہ ملٹری پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی بچے کے قتل میں ملوث فوجی پرفرد جرم عائد کرنے کو تیار ہے۔ پراسیکیوٹر نے الشریف کے قاتل فوجی کو آئندہ سوموار تک پولیس کی حراست میں رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ تین ہفتے قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی لڑکے سترہ سالہ عبدالفتاح الشریف کو گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا تھا۔ اسے شدید زخمی حالت میں دیکھ کر ایک دوسرے فوجی اہلکار نے قریب جا کر اس کے سرمیں گولیاں مار دی تھیں جس کے نیتجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔ اس واقعے کی فوٹیج اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے’’بتسلیم‘‘ نے حاصل کرنے کے بعد نشر کردی تھی جس پردنیا بھر میں اور خود اسرائیل میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے فوجی اہلکار کو حراست میں لے کر اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے تاہم غالب امکان ہے کہ اسرائیلی عدالتیں مجرم کو ہرممکن تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسے سزا سے بچانے کا کوئی نہ کوئی حیلہ ڈھونڈ نکالیں گی۔
