اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ میں ’’میگرون‘‘ یہودی کالونی کی جگہ پر ایک فوجی اڈے کے قیام کے لیے کام شروع کردیا ہے۔
دوسری جانب مقامی فلسطینی آبادی نے ان کی آبادیوں کے درمیان اسرائیلی فوج کے اڈے کے قیام پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل کےعبرانی روزنامہ’’معاریف‘‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ میگرون یہودی کالونی کے پچاس یہودی خاندانوں کو وہاں سے نکال کر دوسرے متبال مقامات پر منتقل کرنے کا معاملہ پچھلے چھ سال سے اسرائیلی عدالتوں اور حکومتی ایوانوں میں زیربحث رہا ہے۔حال ہی میں صہیونی سپریم کورٹ نے میگرون کالونی کے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔ مقامی فلسطینیوں کا خیال تھا کہ میگرون سے یہودیوں کے انخلاء کے بعد ان کے مغصوبہ اراضی انہیں واپس دی جائے گی لیکن ان کے یہ خواب اس وقت چکنا چور ہوگئے جب انہیں بتایا گیا کہ یہاں پر اسرائیل ایک فوجی اڈے کا قیام عمل میں لا رہا ہے جس کے لیے جلد کام شروع کردیا جائے گا۔
اسرائیلی فوج کے ایک سرکردہ عہدیدار نے اخبار معاریف کو شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوجی اڈے کے قیام کا حکم حکومت کی طرف سے دیا گیا ہے اوریہاں پر بارڈر فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا، جو یہاں پر سیکیورٹی کی صورت حال کی نگرانی کریں گے۔
درایں اثناء اسرائیل میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی مخالف تنظیم’’ السلام آلآن‘‘ نے فلسطینیوں کی اراضی پر اسرائیلی فوجی اڈے کے قیام کا فیصلہ مسترد کردیا ہے۔ ایک بیان میں تنظیم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا ہے کہ میگرون کو خالی کرکے وہاں فوجیوں کو بٹھا دیا جائے بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ فلسطینیوں کی آبادیوں کے بیچ پچاس یہودی خاندانوں کی اس بستی کو ختم کرکے اس کی اراضی فلسطینی مالکان کو واپس کردی جائے۔ حکومت نے عدالتی فیصلے کی توہین کی ہے اور وہ اس کےخلاف دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی سپریم کورٹ نے رام اللہ میں میگرون یہودی کالونی میں آباد کیے گئے تمام یہودی خاندانوں کو وہاں سے دوسرے مقامات میں منتقل کرنے اور میگرون کی اراضی ان کے مالکان کے حوالے کرنے کے احکامات دیے تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
