فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طولکرم کی ایک جیل میں زیرحراست نوجوان فلسطینی شہری عدنان سمارہ نے کل ہفتے کے روز سے اپنی بلا جواز گرفتاری اور رہائی کے عدالتی فیصلوں کو نظرانداز کیے جانے کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔
عدنان کا کہنا ہے کہ وہ تام دم رہائی بھوک ہڑتال جاری رکھے گا۔
خیال رہے کہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ ڈیفنس فورس نے عدنان سمارہ کو 02 ستمبرکو طولکرم شہر سے حراست میں لےکر جیل میں منتقل کر دیا تھا۔ عدنان کی گرفتاری اسرائیلی جیل سےرہائی کے محض دو ہفتے کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ اس سے قبل وہ تین سال تک صہیونی جیل میں قید تنہائی کاٹ چکا ہے۔ صہیونی فوج نے عدنام سمارہ کو 15 ستمبر2009ء کو مغربی کنارے سے حراست میں لیا تھا۔ اس پرحماس کے ملٹری ونگ عزالدین القسام شہید بریگیڈ کے ساتھ تعلق کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
عدنام سمارہ کے ایک بھائی معتصم سمارہ حماس کے مرکزی رہ نما ہیں۔ جو پچھلے کئی سال سے صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید ہیں۔ معتصم پرحماس سے تعلق کے الزام میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
