مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ صدر محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی کے عوام کے فنڈز تک روک رکھے ہیں۔ بجٹ میں غزہ کی پٹی کے حصے کی رقم روکنا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی میں حیل وحجت سے کام لینا غزہ کی ناکہ بندی میں شراکت کے مترادف ہے۔
غزہ میں منعقدہ پارلیمانی اجلاس میں پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی جانب سے ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں سنہ 2014.2015 ء کے بجٹ کو سامنے رکھتے ہوئے غزہ کی پٹی کے حصے کی رقوم کی کٹوتی کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین اور رکن پارلیمنٹ یحیٰ العبادسہ نے کہا کہ "صدر محمود عباس کی تمام مالیاتی اور اقتصادی پالیسیاں غزہ کی مخالفت پرمبنی ہوتی ہیں”۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر محمود عباس نے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی میں اضافے کی ترغیبات دینے میں بھی کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ انہوں نے اپنے علاقائی بہی خواہ ممالک سے سفارش کی کہ وہ غزہ کی پٹی کو فنڈز فراہم نہ کریں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدرمحمود عباس نے غزہ کی پٹی میں جاری عمومی فائدے کے تمام منصوبے بند کرائے۔ حادثات میں جاں بحق اور زخمیوں کے لیے فنڈز ختم کرایا اور اب فلسطینی صدر کی ہدایت پر غزہ کی پٹی میں یتیموں اور بیوائوں کی کفالت کرنے والی تنظیموں کے اکائونٹس بھی بند کیے جا رہے ہیں۔
رکن پارلیمنٹ العبادسہ کا کہنا تھا کہ صدر محمود عباس نے مصری حکومت کو بھی غزہ کی ناکہ بندی سخت کرنے کی سفارش کی اور قاہرہ کو رفح گذرگاہ کو بند رکھنے پر مجبور کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
