فلسطینی وزیر اعظم رامی حمداللہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیلی حکام پر دبائو ڈالے اور فوری مداخلت کر کے مشرقی بیت المقدس میں انتخابات کا انعقاد ممکن بنائیں۔
فلسطینی متحدہ حکومت کے قیام کے بعد سے اسرائیلی کابینہ برائے سیاسی و سیکیورٹی معاملات نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حماس کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہونے والے آئندہ کسی انتخابات کا حصہ نہیں بننے دے گی۔
نو منتخب فلسطینی وزیراعظم نے یورپ، عرب ممالک، لاطینی امریکا اور افریقہ کے متعدد وفود سے ملاقات کے دوران بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دبائو ڈالے تاکہ وہ مشرقی بیت المقدس میں انتخابات کروائے۔ اس موقع پر حمداللہ نے وفود کو نئی حکومت کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے بھی آگاہ کیا ہے۔
فلسطینی وزیر اعظم نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی انتظامی حراست کی پالیسی کو ختم کرنے کے لئے فوری طور پر مداخلت کرے۔
حمداللہ نے بتایا کہ متحدہ حکومت کے قیام کے اعلان کے بعد سے اسرائیل نے انتقامی کارروائیاں شروع کردی ہیں جن میں سب سے پہلا قدم غزہ سے چار وزراء کو رام اللہ آںے سے روکنا اور فلسطینیوں کی ٹیکس ادائیگیوں کو روکنا شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
