فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ ان کا مصر کا دورہ نہایت کامیاب رہا ہے اور وہ اپنے دورے کے تمام مقاصد پورے کر کے واپس لوٹے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار اتوار کے روز مصر سے غزہ میں داخلے کے بعد رفح بارڈ ر صحافیوں اور اخبار نویسوں سے گفتگو میں کیا۔
صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ مصر کا دورہ کرنے والے میری حکومتی اہلکاروں کا تین روز تک شاندار استقبال کیا گیا۔ ہماری ملاقات صدرمحمد مرسی، نو منتخب وزیراعظم ڈاکٹر ھشام قندیل اور اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سے بھی تفصیلی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں مصری قیادت نے فلسطینیوں کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ان کا مصری صدر کے ساتھ مذاکرات کے دوران غزہ کی معاشی ناکہ بندی پر مفصل تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر ہم نے مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو بتایا کہ کس طرح سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی ناکہ بندی میں اسرائیل کا ساتھ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مصری حکومت نے فلسطینی محصور شہر غزہ کی پٹی میں توانائی کے تازہ بحران میں مدد کی بھی یقین دہانی کرائی ہے اور ساتھ غزہ اور مصر کے درمیان فلسطینیوں کی واحد بین الاقوامی گذرگاہ کو روزانہ بارہ گھنٹےصبح نو سے رات نو بجے تک کھلا رکھا جائے گا اور اس دوران یومیہ ڈیڑھ ہزار مسافروں کو سرحد پر جانے کی اجازت ہو گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
