صہیونی عقوبت خانوں سے رہا ہونے والے فلسطینی بچوں کے تازہ انکشاف کے مطابق اسرائیلی جیل انتظامیہ زیر حراست بچوں کو زیادتی کی دھمکیوں،
جسمانی تشدد اور دیگر نفسیاتی حربوں کے ذریعے جارحیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی اہلکار انہیں ناکردہ جرائم کے اعتراف اور اسرائیل کے لیے جاسوسی پر مجبور کرنے کے لیے ہر اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ دس سالوں کے دوران نو ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا، ان بچوں کو مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج پر پتھراؤ اور جھڑپوں کے الزامات میں پکڑا گیا۔ بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس، بلعین، معصرہ، کفر قدوم، نبی صالح ٹاؤن اور بیت امر کے علاقوں میں یہودی آباد کاروں پر پتھراؤ کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے بلعین کے محمد نے بتایا کہ اسرائیلی تفتیش کاروں نے اسے مختلف قسم کی دھمکیاں دیں، انہیں غیر اخلاقی اقدامات اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، صہیونی اہلکار چاہتے تھے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں پر پتھراؤ کا اعتراف کرلے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی فوج روزانہ کی بنیاد پر مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے بچوں کو اغوا کرتی ہے اور متعدد بچوں کو صہیونی انٹیلی جنس ایجنسی کیے ہیڈ کوارٹرز میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جاتا ہے۔
قلقیلیہ شہر کے قریبی ٹاؤن عزون سے اغوا کے بعد رہائی پانے والے سامر نے بتایا کہ انٹیلی جنس اہلکاروں نے اسے پیش کش کی کہ اگر وہ اسرائیلی فوج کی گشتی ٹیم پر گھریلو ساختہ پٹرول بم پھینکنے کا اعتراف کرلے تو اسے زیادتی، تشدد اور حراست سے نجات مل سکتی ہے۔ رام اللہ میں انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر شعوان جبارین نے فلسطینی بچوں کے ساتھ برتے جانے والے اس سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل گرفتار کیے گئے فلسطینی بچوں کے ساتھ وہ سلوک کر رہا ہے جو تمام عالمی قوانین بالخصوص چائلڈ لاء کی سراسر توہین ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی عہدیدار بچوں کو جنسی، نفسیاتی اور جسمانی تشدد سے بچنے کی خاطر اسرائیل کے لیے جاسوسی کی پیش کش بھی کرتے ہیں۔ جبارین نے زور دے کر کہا کہ بچوں کی گرفتاریاں اور دوران حراست ان کے ساتھ برتا جانے والا سلوک اقوام متحدہ کے بچوں کے تحفظ کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی چوتھے جنیوا کنونشن کے مطابق بھی اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ سلوک کے معیارات اور قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
