• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

دفتر میں بیٹھنے کے بجائے مہم جویانہ کردار چاہتی تھی: کمانڈو سعد

بدھ 09-04-2014
in فلسطین
0
plf office
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے خصوصی گارڈز میں 22 خواتین کمانڈوز کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ مردوں کے غلبے والے اس معاشرے میں 2600 مرد فلسطینی ایلیٹ فورس کا حصہ ہیں۔ خواتین کی اس صدارتی دستے میں شمولیت کا باعث مغربی کنارے میں بتدریج سامنے آنے والی تبدیلیاں بنی ہیں۔

خواتین کمانڈوز کی شمولیت سے جنسی امتیاز کے کئی مزید حصار ٹوٹ گئے ہیں۔ اس سے پہلے بعض خواتین مئیر، جج، تاجر اور وزیر بھی بن چکی ہیں۔ جو فلسطینی معاشرے میں دھیرے دھیرے لائی جانے والی تبدیلی کا اظہار ہے۔ جبکہ بے روزگاری بھی روز افزوں ہے۔ فلسطینی پولیس کے 30000 اہلکاروں اور دیگر سکیورٹی اداروں میں اب تک صرف تین فیصد خواتین شامل ہیں۔

صدارتی گارڈز میں شامل کی گئی خواتین کو یونیورسٹی کی ایک گریجوایٹ کلاس سے جریکو میں قائم پولیس اکیڈمی نے منتخب کیا تھا، تاکہ انہیں مستقبل کی پولیس افسر کے طور پر تربیت دی جا سکے۔ اکیڈمی نے کرم سعد کو ایک خاتون افسر کے طور پر لیا تھا لیکن 23 سالہ سعد کا کہنا ہے کہ ” میں کسی دفتر میں بیٹھ جانے کے بجائے کچھ مہم جویانہ کردار چاہتی تھی۔” اس کا مزید کہنا ہے” میں بچپن سے ہی بندوق چلانے کا شوق رکھتی تھی۔”

سعد اور اس کے گروپ میں شامل دوسری خواتین نے کمانڈوز والے سیاہ جوتے، کیموفلاج یونیفارم پہنے اور سیاہ رنگ کا سکارف سر پر باندھا تاکہ اپنی حاصل کردہ تربیت کا میڈیا کے سامنے مظاہرہ کر سکیں۔ ان میں غیر تیراک خواتین سمیت کئی کو کہا گیا کہ وہ سومنگ پول میں چھلانگ لگائیں تاکہ ان کے حوصلے کا اندازہ ہو سکے، وہ پورے یونیفارم کے ساتھ سومنگ پول میں کود گئیں۔

انہوں نے اس حوالے سے تربیت اردن کے علاوہ پیرس کے سکیورٹی ماہرین سے بھی حاصل کی اور اپنا خوف دور کیا۔ سعد کا کہنا ہے اس شعبے میں آ کر انہوں نے دوسری خواتین کیلیے دروازہ کھول دیا ہے۔ اب اس کی چھوٹی بہن بھی اس میدان میں آنے کو بے تاب ہے۔ جبکہ اس کے والد بہت زیادہ خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہیں۔

واضح رہے فلسطینی صدارتی محافظین کے دستے کا قیام مرحوم صدر یاسر عرفات کے دور میں عمل میں لایا گیا تھا۔ یاسر عرفات جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جلاوطنی میں گزارا تھا 1994 میں فلسطین واپس آ سکے۔ ان کی آمد کے بعد ہی مختلف سکیورٹی ادارے وجود میں آئے۔

محمود عباس کے دور میں ان محافظین سے ذاتی حفاظت کا کام لیا جانے لگا ۔ حتی کہ غیر ملکی مہمانوں کی حفاظت کیلیے بھی ان گارڈز کی خدمات لی جانے لگیں۔ فی الحال خواتین گارڈز اور کمانڈوز صرف مغربی کنارے سے لی گئی ہیں کیونکہ غزہ میں محمود عباس کی حکمرانی نہیں بلکہ حماس کی حکومت ہے۔

سولہ ہزار سکیورٹی اہلکاروں میں صرف چار سو خواتین اہلکار ہیں۔ انہیں دوسری تربیت کیساتھ ساتھ مارشل آرٹس کی بھی تربیت دی گئی ہے۔ ان خواتین گارڈز کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کیلیے خدمت انجام دینے کیلیے اس شعبے میں سامنے آئی ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.