الاقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ایک سو سے زائد فوجیوں نے مسجد اقصی پر دھاوا بول کر مسلمانوں کے اس تیسرے مقدس ترین مقام کی بے حرمتی کی ہے۔
قبلہ اول پر بولے گئے اس ہلے میں صہیونی فوج کے مختلف عہدوں پر فائز عہدیداروں نے کڑے حفاظتی اقدامات کے درمیان مسجد اقصی اور حرم قدسی کے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ صہیونی فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے اس دورے سے مسجد میں موجود نمازیوں اور اہالیان القدس میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حملہ آور گروپ نے قدیم مسجد اقصی، مصلی مروانی اور دیگر مقامات کا گشت کیا، اسرائیلی فوجی اہلکار مسجد کے مختلف کونوں اور صحنوں میں پھیل گئے۔ مسجد کے تقدس کوپامال کرتی صہیونی اہلکاروں کی نقل و حرکت پر قبلہ اول میں موجود طلبہ اور دیگر نمازیوں شدید مشتعل ہو گئے۔ اس دوران اسرائلی عہدیداروں نے مسجد میں تلمودی عبادات بھی ادا کیں۔
اقصی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران مسجد اقصی پر یہودیوں اور اسرائیلی حکام کے حملوں میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ انتہاء پسند یہودی تنظیموں کی جانب سے مسجد میں داخل ہو کر رقص و سرور پر مبنی تلمودی عبادات کی ادائیگی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ آئے روز کے صہیونی دھاووں کے باعث مسجد میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ فاؤنڈیشن نے اہالیان القدس اور سن 1948 ء کے مقبوضہ فلسطین کے عرب شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصی پر یہودی آباد کاروں کے حملوں کے جواب میں مسجد کی جانب رخت سفر باندھے اور ہمہ وقت مسجد میں موجود رہ کر قبلہ اول کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
