وہ مسلمانوں کی سر زمین کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اسلام کے تیسرے حرم مقدس (مسجد اقصیٰ)کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ ہمارے عقیدے اور مقدسات کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ تمام مسلمانوں کے خلاف سنگین جرم کا ارتکاب ہے۔ اسرائیل کا یہ غاصبانہ قبضہ امت کی کرامت و عزت پر قبضہ ہے ،ہر انسان کی عزت پر قبضہ ہے۔آج آپ کے یہاں اکھٹے ہونے کا مقصد فلسطین کی آزادی یعنی امت کی عزت کو لوٹانا ہے۔اس کی سرزمین کی حفاظت کرنا ہے اس کے مقدسات کی حفاظت کرنا اس کی بنیادوں کی حفاظت کرنا ہے ۔اور اس جارح اور اس کے ظالم ساتھیوں سے امت کی عزت و کرامت کی حفاظت کرنا ہے۔
بھائیو اور بہنو ! میں چاہتا تھا کہ عصر حاضر کی بین الاقوامی اور امت اسلامیہ کی بیداری کے حوالے سے کچھ عر ض کروں ۔ دنیائے اسلام کے جوان اپنی آواز کو مجتمع کریں اور صرف اللہ کی رضا کو بنیاد بنا کر اللہ کی جانب دعوت دیں اور مظلوم عوام کی مدد کریں ۔آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں آوازاٹھائیں جیسا کہ آپ اس کانفرنس میں یقیناًاٹھائیں گے ۔
حکومت برما کا مکمل بائیکاٹ کریں جو ہمارے فرزندوں کو ذبح کر رہے ہیں ۔ اس ملک میں ہمارے عزیز بیٹوں کا قتل عام ہورہا ہے ۔مستقبل میں دنیا پر غلبہ پانے والے عظیم مذ ہب اسلام کے بیٹوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ ان تمام مجرموں کا مکمل طور پر با ئیکاٹ کرنا چاہئے ہم اپنے اسلامی ممالک میں تمام ادیان کے ماننے والوں کو اس بات کا حق دیتے ہیں کہ وہ آزادانہ اپنی عبادات بجالاتے ہیں اور انہیں مکمل طور پر ایک شہری کے حقوق حاصل ہیں لیکن برما میں ہم اپنے بھائیوں کو ایسی مصیبت میں دیکھیں یہ ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔
آپ سب کے کاندھوں پر فلسطین کی آزادی کی ذمہ داری ہے۔جو بھی اس ذمہ داری کو ادا نہ کرے اللہ اس سے ضرورسوال کرے گا ۔ہم فلسطین کے فرزند اپنی قیمتی ترین چیز قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ اور ہم نے ایسا کردکھایاہے ،اوراب بھی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ آج ہم عرب ممالک کے ان مبارک انقلابات کے بعد فلسطین کی آزادی کے نزدیک ہوچکے ہیں ۔سلام ہو ان پر جنہوں نے آزادی فلسطین کیلیے مدد کی ہے۔ ہم قسم کھاتے ہیں کہ فلسطین کو بحر سے نہر تک شمالی سے جنوب تک آزادکراکے رہینگے اور یہ ایک قرآنی حقیقت ہے ۔ہمیں انسانی مدد کی ضرورت نہیں،لیکن آپ سے دعا کی اپیل ہے تاکہ اللہ کے حضور یہ کہہ سکو کہ ہم نے فلسطین کے لیے کچھ پیش کیا ہے ۔
میں آپ کے توسط سے یورپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک ہم پر ظلم نہ کروہم آپ کے دشمن نہیں ہیں ۔ہم آپکودنیامیں موجود ایک حقیقت کے طور پر ہی جانتے ہیں ۔لیکن یہ حقیقت باہمی تعاون اور مشترکہ انسانی اہداف جیسے مفاہیم سے عبارت ہونی چاہیے۔ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں لیکن ہم پر حملہ ہوتوپھر بغیر جواب کے نہیں چھوڑتے ۔یورپ نے اس غاصب ریاست کے قیام کی شکل میں ہم پر ظلم ڈھایاہے تو اس کا جواب فلسطین کی مکمل آزادی کی شکل میں دیں گے ۔فلسطین آزادی کے متوالوں8 کے لیے سیاسی قبلہ ہے ۔وہ لوگ جو ہمیں اس قسم کی کانفرنسوں میں شرکت سے روکتے ہیں اللہ ان کا خود حساب کرے گا ۔
حماس اور منتخب حکومت میں موجود آپکے بھائی اور فلسطین کے عوام آپ کے لیے محبتوں اور اظہار تشکر کا پیغام دیتے ہیں ،اور اس ماہ فضیلت میں دعا گو ہیں کہ اللہ کی نعمتیں آپ پر نازل ہوں اور دعا ہے کہ عنقریب مسجد اقصٰی میں سب نماز شکر انہ ادا کریں ۔
