(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی دہشتگردی کے خلاف برسرپیکاراسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں غزہ میں قیام امن کےلئے مصر کی کوششوں کا مثبت جواب دیا اور ایک قومی ہم آہنگ حکومت یا تکنوکریٹس کی تشکیل کے لیے کام کیا ہے۔
حماس نے مصر کی حمایت یافتہ عرب اور اسلامی ممالک کی طرف سے غزہ کی عارضی انتظامیہ کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا، جس کی سیاسی رہنمائی فلسطینی صدر کے فرمان کے تحت ہوگی۔ حماس نے یہ بھی واضح کیا کہ غزہ فلسطینی جغرافیائی سیاست کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے حقوق کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔
حماس نے مزید کہا کہ اس نے فلسطینی تحریک فتح کے ساتھ مصر کی نگرانی میں ایک اہم پیش رفت کی ہے، اور مختلف قومی جماعتوں، فصائل اور شخصیات کے ساتھ مل کر غزہ کی انتظامیہ کے لیے تجربہ کار اور قابل افراد کے ناموں کا تعین کیا ہے۔ یہ نام مصر کے حوالے کیے گئے ہیں تاکہ وہ آئندہ حکومتی اقدامات میں استعمال کیے جا سکیں۔ حماس نے یہ امید ظاہر کی کہ فلسطینی اتھارٹی اور فتح اس سلسلے میں مکمل تعاون کریں گے تاکہ غزہ کے مسائل کو حل کیا جا سکے اور سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ اس نے ہمیشہ فلسطینی اتحاد اور سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے تمام کوششیں کی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی موجودہ حالت، جہاں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جارحیت کی وجہ سے تباہی اور نسل کشی کی کیفیت ہے، فلسطینیوں کے لیے شدید خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ حماس نے عالمی برادری کی ناکامی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور فلسطینیوں کو یکجا ہو کر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
