مصرکی سب سے منظم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد مہدی عاکف نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” فلسطینی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قطر کی مساعی سے فلسطین میں قومی حکومت کے لیے حماس اور فتح کےدرمیان معاہدہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کو مل کر مسئلہ فلسطین کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے۔
اخوان المسلمون کے مرشد عام نے ان خیالات کا اظہار مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگومیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی حمایت اور مدد ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ فلسطینیوں کے قومی اصولوں اور ان کے حقوق کے تناظر میں دیگر اقوام کو بھی باہم متحد ہو کر ان کی مدد کرنی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلسطینی تنظیم حماس اپنی قوم کی امنگوں اور خواہشات کی تکمیل کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مرشد عام کا کہنا تھا کہ وہ فلسطین کے مستقبل کے حوالے سے حماس پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ اس تنظیم نے فلسطین کی آزادی کے لیے جتنی قربانیاں دی ہیں کسی دوسری جماعت نے نہیں دیں۔
مہدی عاکف نے کہا کہ دوحہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے صدر خالد مشعل اور صدر محمود عباس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں قومی حکومت کے قیام کے سلسلے میں کی جانے والی تنقید بلاجواز ہے۔ دوحہ مذاکرات اور اعلامیہ ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کے عمل کو مزید مستحکم اور گہرا کرنے میں مدد ملے گی۔ خیال رہے کہ اخوان المسلمون اس وقت مصرکی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ مصر میں انقلاب کی کوکھ سے جنم لینی والی قومی اسمبلی میں اخوان المسلمون کے پاس پچاس فیصد کے قریب نشستیں ہیں۔

