مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مصری سیاست میں متنازعہ سمجھے جانے والے وزیراحمد الزند نے حال ہی میں ایک نیا پنڈورا بکس کھول کر فلسطینی تنظیموں کوآپس میں لڑانے کی سنگین سازش کی ہے اور الزام عاید کیا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے بانی الشیخ احمد یاسین کو گیارہ سال قبل اسلامی جہاد نے اسرائیل کو مخبری کرکے قتل کروایا تھا۔
مصری وزیر کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلامی جہادکے سیکرٹری جنرل رمضان عبداللہ الشلح نے بتایا تھا کہ الشیخ احمد یاسین کو ان کی جماعت نے مخبری کے ذریعے قتل کرایا تھا۔
اسلامی جہاد کی جانب سے جاری ایک رد عمل مصری وزیر کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جبکہ حماس نے بھی مصری وزیر کی جانب سے فلسطینی تنظیموں کو باہم دست وگریباں کرنے کی سازش ناکام بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جہاد الشیخ احمد یاسین کو شہید کرانے جیسا سنگین اقدام نہیں کرسکتی ہے۔
حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل رمضان الشلح خود جہاد کے داعی اور شہادت کے راستے پر چلنے والے ہیں۔ وہ کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتے اور نہ ہی ان کی تنظیم کبھی ایسے سنگین واقعے میں ملوث ہوسکتی ہے۔
حماس رہ نما نے کہا کہ مصری وزیرجس منصب پرفائز ہیں وہاں انہیں ایسے متنازعہ بیانات دینا قطعی نا مناسب ہے۔ اسلامی جہاد کا کوئی شخص بھی الشیخ احمد یاسین کو شہید کرانے کے لیے اسرائیل کو مخبری نہیں کرے گا۔
خیال رہے کہ 22 مارچ 2004 ء کو اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے نماز فجرکے وقت غزہ کی پٹی میں الشیخ احمد یاسین کو اس وقت ایک میزائل حملے میں نشانہ بنایا تھا جب وہ نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے اپنی وہیل چیئر پرباہر نکل رہے تھے۔ میزائل حملے میں الشیخ احمد یاسین اور نو نمازی موقع پر شہید ہوگئے تھے۔
حال ہی میں مصری وزیرکی جانب سے یہ الزام سامنے آیا ہے کہ اسلامی جہاد کے رہ نما رمضان الشلح نے انہیں بتایا تھا کہ الشیخ احمد یاسین کو اسرائیل کے ذریعےشہید کرانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے اسرائیل کو الشیخ احمد یاسین کے ٹھکانے کے بارے میں بتایا تھا۔
