الاقصی فاؤنڈیشن برائے اوقاف اور ورثہ کا کہنا ہے کہ حائط البراق مبارک مسجد اقصی کا جزو لا ینفک ہے۔ اس کے ایک بھی ذریعے پر مسلمانوں کے سوا کسی دوسرے کا حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ان خیالات کا اظہار فاؤنڈیشن نے اسرائیلی وزیر اعظم کے حائط البراق سے متعلق ایک بیان کے جواب میں کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے بیان کے مطابق: "مقبوضہ بیت المقدس اور اس کی پرانی میونسپلٹی عرب اور اسلامی تہذیب وتمدن کا گہورا ہے، جسے عرب کنعانیوں نے آباد کیا اور صدیوں تک یہاں آباد ہے۔ ان کے بعد رومی اور فارس علاقے پر قابض ہوئے۔”
بیان میں مزید کہا گیا ہے القدس حضرت عمر بن الخطاب کے ہاتھوں فتح ہونے کے بعد سے اسلامی تہذیب اور تاریخ کا مرکز چلا آ رہا ہے۔ خلافت راشدہ اور پھر خلافت عثمانیہ تک کی تاریخ میں یہ شہر اسلامی شناخت کا گہوارہ چلا آیا ہے۔ ‘مسجد الاقصی، القیامہ چرچ سمیت شہر کی تمام مقدس نشانیاں اس شہر کی عرب اور اسلامی شناخت کی گواہی پیش کرتی ہیں۔’
یاد رہے اسرائیلی وزیر اعظم نے بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں دعوی کیا تھا کہ دیوار گریہ [یعنی حائط البراق] یہودی ملکیت ہے۔ نیز پرانا القدس شہر گزشتہ تین ہزار برسوں سے یہودی ملکیت ہے اور مستقبل میں بھی انہی کا رہے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
