اسرائیل نے جیلوں میں ڈالے گئے درجنوں فلسطینیوں کورہا کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ صہیونی جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیلوں میں فلسطینیوں کی تعداد میں اضافے کے باعث پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون”المنہلی” اور "شلیش” کوبحال کر دیا ہے۔
ان قوانین کے تحت دو تہائی مدت اسیری پوری کرنے والے قیدیوں کو جیلوں میں تعداد بڑھ جانے کے باعث رہا کیا جا سکتا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی جیل انتظامیہ اور وزارت داخلہ کے حوالے سے اسیران کے ایک فلسطینی وکیل فادی القواسمی نے بتایا کہ کنیسٹ کی داخلہ کمیٹی نے ایک ماہ پیشتر جیلوں سے مذکورہ دو قوانین کے تحت قیدیوں کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی۔
اس قانون کے بموجب طویل المدتی اسیروں کی رہائی نہیں ہو گی بلکہ صرف چار سال یا اس سے کم قید کے سزایافتہ اسیران کو ریلیف ملے گا۔
ادھر دوسری جانب مغربی کنارے سے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کی شام اسرائیلی جیلوں سے کوئی دو سو فلسطینیوں کو رہا کر دیا گیا۔ یہ فلسطینی الخلیل میں شمعہ فوجی چوکی سے گاڑیوں سے اتار کر فلسطینی علاقوں کو روانہ کیے گئے۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ برس اگست میں "المنہلی” قانون پر اس وقت عمل درآمد روک دیا تھا جب جیلوں سے حماس کے ساتھ ایک ڈیل کے بعد سیکڑوں فلسطینیوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

