فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ عرب اقوام فلسطین کی آزادی کے لیے قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے صدر محمود عباس کی قوم دشمن پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ جو لیڈر وطن کی آزادی کے لیے کچھ نہیں کرسکتے ہیں
انہیں یہ حق بھی نہیں کہ وہ قومی اصولوں سے انحراف کریں اور اپنی مرضی سے افراط و تفریط کا مظاہرہ کریں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں عرب میڈیکل ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس میں مصر، اردن اور خلیجی ممالک کے ڈاکٹر اور ماہرین شریک تھے۔ اسماعیل ھنیہ نے عرب ممالک سے اْئے مہمان وفود اور ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی آمد سے اہل غزہ کی مشکلات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے قوم کی آزادی کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ شہداء کی قربانیاں اور جیلوں میں طویل مدتیں گذارنے والے اسیر قوم کے ہیرو ہیں۔ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ فلسطینی عوام آج بھی صہیونی دشمن کی جارحیت کا پا مردی سےمقابلہ کر رہے ہیں اور آئندہ بھی صہیونی دشمنوں کو ناکوں چنے چپواتے رہیں گے۔ فلسطینی عوام اپنی عزت اور بزرگی پر آنچ نہیں آنے دے گی۔
انہوں نے کہا کہ آج کئی عرب ملکوں کے نمائندے غزہ کی پٹی میں جمع ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عرب اقوام کا اہل فلسطین سے رابطہ قائم ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں اور عرب اقوام کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کی سازشیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ پوری عرب دنیا میں فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی کرنے والے کروڑوں میں ہیں، اس کا اظہار روز مرہ عرب ممالک کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سمندری اور خشکی کے راستوں سے آنے والے قافلوں اور وفود سے ہوتا ہے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست دہشت گردی کی راہ پر چل رہی ہے جبکہ فلسطینی عوام آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آزادی کے لیے ہمیں بندوق اٹھانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے کیونکہ صہیونی دشمن صرف طاقت کی زبان جانتا ہے اور فلسطینیوں کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔ رام اللہ اتھارٹی کے اسرائیل کے ساتھ نام نہاد مذاکرات کے کھیل نے اپنی ناکامی خوث ہی ثابت کردی ہے۔ جب سے نام نہاد امن مذاکرات کا سرکس سجایا گیا ہے فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی کے بجائے اور ان کی پامالی میں اضافہ ہوا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
