کے شدت پسند وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین کا اخبارات کا موضوع بننے والے ایک بیان پرمصرنے شدید تنقید کرتے ہوئے صہیونی ریاست سے وزیرخارجہ کے بیان کی وضاحت طلب کی ہے۔
اخبارات میں اسرائیلی وزیرخارجہ کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔ وزیرخارجہ کے نام منسوب اس بیان میں مصر کو”دشمن ریاست” قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب انقلاب کے بعد دشمن کی طرف بڑھتے مصر کےخلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی وزیرخارجہ کے اس متنازعہ بیان پرمصر کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید نوعیت کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ مصری نگراں حکومت نے تل ابیب میں اپنے سفیر سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اسرائیلی وزیرخارجہ کے اس بیان کی حقیقت معلوم کریں۔ اگر ان کا بیان حقیقت ہے اور آوی گیڈور نے مصرکےخلاف جنگی تیاریوں کے بارے میں کوئی بیان دیا ہے تو مصر اس کے مطابق اسرائیل سے جواب طلبی کرے گا۔
مصری وزیرخارجہ محمد کامل عمرو نے اسرائیل تعینات سفیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے اور سفیر کوہدایت کی گئی ہے کہ وہ اخبارات میں شائع ہونے والے اوی گیڈور لائبرمین کے بیان کی مکمل تحقیقات کریں۔ کیونکہ ان کے اس بیان کے کچھ حصے براہ راست مصر سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ اخبار میں شائع بیان میں اسرائیلی وزیرخارکہ کا کہنا ہے کہ انقلاب کے بعد مصر اسرائیل کے لیے دشمن ملک کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ مصرکی طرف سے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے سامان جنگ جمع کر رہے ہیں۔
صہیونی وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ مصرما بعد انقلاب اسرئیل کے لیے ایران کے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مصرکی طرف سے کسی بھی خطرے کی روک تھام کے لیے جنگی استعداد بڑھا رہے ہیں۔
مصری وزیرخارجہ نے پیر کو میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں اسرائیلی حکومت کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ وہ جارحانہ بیان بازی سے گریز کرے کیونکہ مصر کو دشمن ریاست قرار دینے جیسےزہر آلود بیانات سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔
ادھر اسرائیل کے ایک بڑے عبرانی اخبار”معاریف” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے حال ہی میں کابینہ کے ایک بند کمرہ اجلاس میں مصرکی بدلتی پالیسیوں پر سخت انتباہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصرانقلاب کے بعد اسرائیل کے لیے ایران کے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو چکا ہے اور ہمیں اس کے خلاف جنگ کی تیاریاں کرنی چاہئیں۔
اسرائیلی وزیرخارجہ کا یہ متنازعہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے مصرنے اسرائیل کے ساتھ گیس کی فراہمی کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔مصری حکومت کے اس فیصلے پر اسرائیلی حکومت سخت سیخ پا ہے اور مصری حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

