فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سنہ 2009ء میں غزہ کی پٹی پرمسلط کردہ جنگ کے ہزاروں زخمیوں کا جنگی بنیادوں پر علاج اور ان کی بحالی دشمن پر قوم کی ایک فتح ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ دشمن کی جارحیت سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ دشمن نے جنگ مسلط کی تو پوری قوت سے جواب دیں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین(پی آئی سی) کے مطابق وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار غزہ میں اسلامی یونیورسٹی کے زیراہتمام بحالی معذوراں کے پرجیکٹ کی نمائش کےموقع پرکیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے چانسلر انجینئر جمال الخضری اور کئی وزراء بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
وزیراعظم نے غزہ کی پٹی کے ماہرین بالخصوص یونیورسٹی کے ڈاکٹروں کی جنگ سے معذور ہونے والے شہریوں کی بحالی اور زخمیوں کے علاج کی دن رات مساعی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی معذوروں کی بحالی اور زخمیوں کے علاج میں کامیابی ہم نہ صرف ہمارے ماہرمعالجین کا کلیدی کردار ہے بلکہ پوری قوم کا عزم و استقامت بھی اس میں شامل حال رہا ہے۔ ہم نے دشمن پر کئی فتوحات حاصل کی ہیں۔ پہلی اور دوسری تحریک انتفاضہ کے ثمرات سمیٹنے کے بعد ہم نے سنہ 2009ء کی غزہ پر مسلط جنگ میں بھی دشمن کے مذموم ارادے خاک میں ملائے۔ دشمن کے ایک فوجی کو جنگی قیدی بنا کر اس کےبدلے میں ایک ہزار پچاس اپنے اسیروں کو رہائی دلوائی اور آج ہمارے معالجین کی دن رات کی مساعی سے جنگ میں زخمیوں اور معذوروں کو بھی شفاء مل چکی ہے، جو ہماری ایک نئی فتح اور کامرانی ہے۔
وزیراعظم نے بحالی معذوراں پروگرام میں تعاون کرنے پر ترکی کے وزیراعظم رجب طیب ایردوان اور دوسرے ملکوں کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ممالک کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو ہم معذوروں اور زخمیوں کی بہبود کے لیے کچھ نہ کر سکتے تھے۔
خیال رہے کہ سنہ 2008ء اور 2009ء کے درمیان غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ڈیڑھ ہزار افراد شہید اور پانچ ہزار سے زائد زخمی اور معذور ہو گئے تھے۔ معذوروں کے علاج اور انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے مختلف نوعیت کے بحالی کے پروگرامات شروع کیے گئے تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
