فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم مرکز برائے اسیران نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں قید جرائم پیشہ یہودی عورتیں ان جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی خواتین کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ان جرائم پیشہ عورتوں سے فلسطینی اسیرات کی جانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر ریاض الاشقر نے مقبوضہ بیت المقدس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی خواتین پریہودی عورتوں کے حملوں کے لیے ‘‘ھشارون’’ جیل کی مثال پیش کی جہاں حال ہی میں ایک شدت پسند یہودی مجرمہ نے فلسطینی اسیرہ کا گلہ گھونٹ کر اسے مارنے کی کوشش کی تھی، پولیس اور سیکیورٹی حکام نے مداخلت کرکے فلسطینی اسیرہ کی جان بچائی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے مندوب کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی ھشارون جیل میں فلسطینی محروسات کی جانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔ اب تو یہودی مجرم خاتون کے ہاتھوں سترہ سالہ فلسطینی اسیرہ آلا عیسیٰ الجعبہ پر حملے کی ایک بین مثال بھی موجود ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت فلسطینی خواتین قیدیوں کی تعداد آٹھ ہے۔ گذشتہ برس فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ‘‘حماس’’ اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے کے بعد تمام فلسطینی اسیرات کو رہا کردیا تھا تاہم قابض صہیونی پولیس نے آٹھ خواتین کو اس کے بعد حراست میں لے کر جیلوں میں منتقل کیا ہے۔ بیشتر فلسطینی خواتین ھشارون جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ جہاں حال ہی میں ایک یہودی خاتون قیدی نے فلسطینی اسیرہ پر حملہ کردیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئی تھی۔ اسرائیل نے یہودی حملہ آور خاتون کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے یہ نام نہاد جواز تراشا کہ حملہ آور ذہنی مریضہ ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
