• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

ججوں کی تعیناتی میں بھی اسرائیل کا فلسطینیوں سے امتیازی سلوک سامنے آگیا

بدھ 03-06-2015
in فلسطین
0
plf discrimination
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیل کےتمام سرکاری شعبوں میں فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا جادو سرچڑھ کربولنے لگا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح سنہ 1948 ء کے عرب فلسطینی شہروں میں عدالتوں میں بھی فلسطینیوں کے بجائے یہودی جج تعینات کیے جا رہے ہیں اور فلسطینی ججوں کی تقرری کا وعدہ گول کردیا گیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی عبرانی یونیورسٹی”جامعہ حیفا” کے زیرانتظام کی والی ایک اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سنہ 1948 ء کے مقبوضہ عرب شہروں میں جہاں فلسطینیوں کی اکثریت ہے وہاں پرعدالتوں میں عرب جج تعینات کیے جائیں گے لیکن اس وعدے کے باوجود فلسطینیوں اور عرب باشندوں کے ساتھ اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیاں بدستور جاری و ساری ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ مقبوضہ عرب شہروں میں مجموعی طورپر 672 جج تعینات ہیں جن میں 52 عرب ہیں جو کہ کل تعداد کا صرف 7.7 فی صد بنتی ہے جبکہ صہیونی حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ سنہ 1948 ء کے عرب شہروں میں قائم عدالتوں میں فلسطینی ججوں کا کوٹہ 20  فی صد سے زیادہ ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2008 ء میں مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کے کل 580 میں سے 40 جج عرب تھے۔ اس کے بعد چھ سال میں صرف 12 عرب ججوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان میں تمام جج سپریم کورٹ، مجسریٹ عدالتوں، لیبر کورٹس اور سینٹرل کورٹس میں تعینات ہیں جبکہ بیت المقدس اور تل ابیب میں قائم سینٹرل کورٹ میں کوئی ایک عرب جج نہیں ہے۔

اسرائیلی تجزیہ نگار گائی لوری کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جوڈیشل اتھارٹی کے مطابق فلسطینی عربوں میں پیشہ وارانہ بنیادوں پر جج کی اہلیت پراترنے والے امیدوار اصل مسئلہ ہیں لیکن حقیقت اس کےبرعکس ہے۔ جوڈیشل اتھارٹی اور حکومت دراصل خود ہی دانستہ طورپر عرب شہریوں کو عدالتوں میں ججوں کے عہدوں پرتعینات کرنے سے گریز کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالتوں میں فلسطینی ججوں کی عدم موجودگی سے مقامی فلسطینی آبادی کی صرف 24 فی صد اپیلیں سماعت کے لیے منظوری کی جاتی ہیں۔ اگر عرب ججوں کا کوٹا پورا ہو فلسطینیوں کی قابل سماعت درخواستوں کی تعداد 36 فی صد تک پہنچ سکتی ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.