اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے رہنما ڈاکٹر صلاح بردویل نے خبردار کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کی سربراہی میں شروع کی جانے والی حالیہ امن عمل کی بحالی کی مہم دراصل اس امریکی پالیسی کا ہی ایک حصہ ہے جس کے ذریعے وہ مسئلہ فلسطین کا اسرائیلی خواہشات کے مطابق تصفیہ کرنا چاہتا ہے۔
جمعرات کے روز خبر رساں ایجنسی ”قدس پریس” سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بردویل نے کہا کہ فلسطینی قوم اس طرح کی کوششوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جان کیری کے حالیہ اقدامات کے پیچھے فلسطینیوں کے لیے کوئی امید نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے سیاسی عمل کی قیادت کر رہے ہیں جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کا مکمل تصفیہ ہے۔ وہ خطے کے موجودہ حالات کو کسی نئے معاہدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ چاہ رہے ہیں کہ ایک ایسی فلسطینی اتھارٹی قائم کردی جائے جس کی فکری اور سیاسی بیک گراؤنڈ نہ ہو۔ ڈاکٹر بردویل نے امن عمل کے سائے میں امریکا کے اس خوفناک کھیل سے خبردار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا ”ہم جانتے ہیں کہ واشنگٹن کی پالیسی کی بنیاد مسئلہ فلسطین کو تحلیل کرنے کی بنیاد پر قائم ہے اور فلسطینی قوم اس پالیسی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ”
ڈاکٹر بردویل کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے پیچیدہ اور مبہم مذاکراتی عمل میں داخل ہونے سے فلسطینی مفاہمت اور قومی وحدت پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ فلسطینی رہنما کے بہ قول ”امن عمل”مسلمہ قومی حقوق کی پاسداری کی بنیاد پر طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے سرے سے ہی خلاف ہے۔ اگر فلسطینی اتھارٹی نے پوری قوم کے مسلمہ حقوق سے پہلو تہی کرکے امریکی منصوبے میں شمولیت اختیار کی تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے فلسطینی مفاہمت سے بھی منہ پھیر لیا ہے۔ اسی لیے ہم تحریک فتح کے دانش مند اورعقلمند رہنماؤں کواس خطرناک امریکی منصوبے میں کودنے سے باز رہنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
