اسرائیل کے زیر تسلط فلسطین کے تاریخی اور مقدس شہر مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں اور صہیونیوں کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی "تحفظ القدس” مہم کا افتتاح کیا گیا ہے۔
اس مہم کے تحت عرب ممالک اور پورے عالم اسلام میں تحفظ القدس کے عنوان سے تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس کی حفاظت اور اس کی تعمیرو بہبود کے لیے سرگرم”المرابطین کمیٹی” کے چیئرمین یوسف مخمیر نے پیر کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے جس مہم کا آج افتتاح کیا ہے وہ صہیونیوں کے بیت المقدس کو یہودیانے کے اقدامات کا جواب اور رد عمل ہے۔ چونکہ اسرائیلی حکومت اور اس کے تمام ریاستی ادارے، انتہا پسند یہودی تنظیمیں اور پوری دنیا میں پھیلی صہیونی لابی بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھیننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کرر ہی ہے۔ بیت المقدس کے ایک بڑے حصے پریہودی بستیاں تعمیر کرکے ان میں انتہا یہودیوں کو بسایا گیا ہے۔
ان کا یہاں بسائے جانے کا مقصد ہی صرف یہ ہے کہ بیت المقدس اور اس کے آس پاس سے فلسطینیوں، عربوں اور مسلمانوں کو دیس نکالا دیا جاسکے۔ انہوں نے اس سلسلے میں جس مہم کا آغاز کیا ہے وہ اسرائیل اور صہیونی لابی کی انہی سازشوں کا جواب ہے۔ ہم نے بھی کوشش کی ہے کہ عرب ممالک اور عالم اسلام میں مسلمانوں کو بیت المقدس کو درپیش خطرات سے آگاہ کریں۔ اس سلسلے مسلمانوں کی قوت کو مجتمع کرکے قبلہ اول اور بیت المقدس شریف کو بچایا جاسکے۔
ایک سوال کے جواب میں یوسف المخمیر کا کہنا تھا کہ وہ پورے عالم اسلام میں جائیں گے۔ دینی جماعتوں ، حکومتوں، سیاسی تنظیموں، ذرائع ابلاغ کے اداروں اور تھینک ٹینک کے پاس جائیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ یہودی کس طرح مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو ہم سے چھیننے کی سازش کررہے ہیں۔ القدس کے تحفظ کے لیے مہم کے روح رواں نے کہا ک اس وقت بیت المقدس کو جو خطرات لاحق ہیں، اس کی بنیادی وجہ عالم اسلام کی عدم توجہی ہے۔ کیونکہ پوری اسلامی دنیا کی توجہ اس وقت ان کے داخلی امور اور بعض غیر ضروری امور کی طرف مرکوز ہوچکی ہے، جس کے باعث یہودیون کو القدس کو یہودیانے کا موقع مل رہا ہے۔
یوسف نے عالم اسلام اور عرب ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی اس مہم میں تعاون کرکے القدس سے اپنے مذہبی تعلق کا ثبوت فراہم کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

