تحریک حماس نے عمان میں ماہ جولائی کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے صدر اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان ہونے والی دو ملاقاتوں کی تفصیلات پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کی بحالی کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تاریخی تنازعہ ختم ہوجائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ عرب لیگ کے ساتھ اسرائیل کے مذاکرات معمول کی سطح پر بحال ہوجائینگے اور اس کے جواب میں قابض صیہونی حکام طے شدہ حدود پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت دے دیں گے۔
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے فلسطینی اتھارٹی اور قابض فوج کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایک اور اوسلو معاہدے کے سامنے آنے کے امکانات ہیں۔ تحریک حماس کے مطابق اس نئے معاہدے میں فلسطینی اتھارٹی قابض حکام کو یہودی ریاست کے طور پر مان لے گی اور اس کے بدلے میں یہودی ریاست تمام عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بعد طے شدہ منصوبے کے مطابق ایک فلسطینی ریاست کے وجود کو مان لے گی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ مذاکرات اسی طرح 3 سے 9 ماہ تک بغیر کسی شرائط کے چلتے رہیں گے اور اردن بھی مہاجرین، یروشلم اور سرحدی معاملات پر ہونے والی ملاقاتوں میں شرکت کرے گا۔ نئی ریاستوں کی سرحدیں، مذاکراتی پارٹیوں کی جانب سے مشاورت اور فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے زمینوں کے تبادلے کے منصوبے کی روشنی میں طے کئے جائینگے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یروشلم اور وادی اردن کی حدود میں جاری بڑے آبادکاری منصوبوں کے علاوہ تمام چھوٹے آبادکاری منصوبے جاری رہیں گے۔ اس مجوزہ معاہدے میں یہودی بستیوں سے تعلق رکھنے والے اسرائیلیوں کو فلسطینی یا اسرائیلی شہریت یا دونوں شہریتیں ایک ساتھ دے دی جائیں گی اور اس کے ساتھ ہی غزہ اور مغربی کنارے کے کچھ فلسطینی خاندانوں کو دوبارہ ملا دیا جائے گا جبکہ باقی خاندانوں کو اس بات کی ترغیب دی جائیگی کہ وہ عرب ممالک خاص طور پر خلیجی ریاستوں میں ہجرت کر جائیں اور ان ریاستوں کو اس بات کے لئے راضی کرلیا جائے گا کہ وہ انہیں اپنی شہریت جاری کریں۔
معاہدے کے مطابق مشرقی یروشلم دس سالوں کے عرصے کے لئے بین الاقوامی، فلسطینی، اسرائیلی اور اردنی انتظامیہ کے زیر انتظام رہے گا۔ اس کے علاوہ ایسے اسیران جو کہ 20 سال سے زیادہ کا عرصہ اسرائیلی جیلوں میں گزار چکے ہیں اور جنہیں اب اسرائیلی انتظامیہ اپنے لئے خطرہ نہیں سمجھتی ہے انہیں رہا کردیا جائے گا۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس امن مذاکرات کی بحالی کے کچھ ہی عرصے بعد مغربی کنارے میں قانون ساز اسمبلی اور صدارتی انتخابات کا مطالبہ کردینگے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ محمود عباس نے 7 جولائی کو فتح رہنما ڈاکٹر نبیل شعث کو ایک خفیہ مشن پر ماسکو روانہ کیا تھا تاکہ وہ روسی قیادت کو اس نئے منصوبے کے بارے میں بتا سکیں اور انہیں اپنے اعتماد میں لے سکیں۔ اطلاعات کے مطابق روس نے ابتدائی طور پر اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
حماس کو یہ معلومات فلسطینی اتھارٹی، اسرائیلی پارٹیوں اور جان کیری کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرنے والے ذرائع نے پہنچائی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
