مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیلجیم کی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں کے حقوق کی پامالی کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
بدھ کے روز بیلجیم کی پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس صرف فلسطینی اسیران کے ساتھ اسرائیلی جیلروں کے ناروا سلوک کےحوالےسے منعقد کیا گیا۔ اجلاس سے قبل پارلیمنٹ کو ایک مفصل رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں اسرائیل جیلوں میں قید فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی حکومت اور اس کے نام نہاد قانون نافذ کرنے والے ادارے جیلوں میں قید فلسطینیوں کے معاملے میں عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
یہ رپورٹ تنظیم آزادی فلسطین کے شعبہ امور اسیران کے سربراہ عیسیٰ قراقع کی جانب سے بیلجیم کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صہیونی جیلر فلسطینی قیدیوں پر دوران حراست تشدد کے غیرانسانی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بغیر کسی الزام کے فلسطینیوں کو طویل عرصے تک قیدو بند میں رکھا جاتا ہے۔ ایک بڑی خلاف ورزی فلسطین کے منتخب ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاری کی شکل میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ جیلوں میں سیکڑوں فلسطینی جان لیوا امراض کا شکار ہیں اور انہیں ادنیٰ درجے کی طبی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔
رپورٹ میں بیلجیم کی پارلیمنٹ سے پرزور مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا نوٹس لیتے ہوئے فلسطینی اسیران کی رہائی کے لیے اسرائیل پردبائو ڈالے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں اس وقت کم سے کم 7 ہزار فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں سیکڑوں بچے اور خواتین، مریض، ارکان پارلیمنٹ اور انتظامی حراست کے تحت گرفتار کیے گئے فلسطینی شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
