فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صہیونی حکومت اور یہودی آباد کاروں کی ملی بھگت کے تحت فلسطینیوں کی املاک پرقبضے اور یہودی آباد کاری کا سلسلہ بدستورجاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز یہودی آباد کاروں کےایک گروپ نے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں ام حمدین کےمقام پر پانچ مکانات کی تعمیر کا اغاز کردیا۔ یہ تعمیرات صہیونی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی اجازت کے بغیر شروع کی گئی ہیں۔
فلسطینیوں کی اراضی کے دفاع کے لیے قائم مقامی کمیٹی کے چیئرمین احمد صلاح نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ہفتے کے روز کوئی بیس کے قریب یہودی آباد کاروں نے بیت لحم میں ام حمدین کے مقام پر مکانات کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ تعمیرات ایک ٹیلے پر کی جا رہی ہیں وہاں پر فلسطینیوں کی ایک بڑی آبادی ام رکبہ کالونی سے محض چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
احمد صلاح نے بتایا کہ جب یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کی اراضی پر اپنے لیے مکانات کی تعمیر کا آغاز کیا تو اس وقت بڑی تعداد میں یہودی فوجی بھی ان کی حفاظت کے لیے موجود تھے، جنہوں نے غاصب یہودیوں کو ہرقسم کی سیکیورٹی فراہم کی۔ یہودی آباد کارمقامی آبادی بجلی اور پانی کے کنکشن بھی لے گئے ہیں۔ مقامی فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ جس اراضی پریہودی آباد کاروں نے قبضہ کیا ہے اس کا رقبہ ساٹھ ایکڑ کے قریب ہے جو مقامی فلسطینی شہریوں موسیٰ، صلاح اور شاہین نامی خاندانوں کی ملکیت ہے۔ اس زمین پر اخروٹ، چلغوزے اور زیتون کے پودوں کے باغات ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
