مقبوضہ مغربی کنارے میں مقامی فلسطینی شہریوں کی املاک پر صہیونی فوج کے حملوں اورانہیں نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق صہیونی فوج نے مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں فلسطینیوں کے زیراستعمال پانی کے ایک کنوئیں اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے تعمیر کی گئی دیوار کومسمار کرنے کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت لحم میں یہودی توسیع پسندی کے خلاف سرگرم قومی کمیٹی کے کو آرڈینیٹر احمد صلاح نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں کی طرف سے جاری نوٹسز میں بتایا گیا ہے کہ بیت لحم میں الخضر قصبے میں صہیونی حکومت کی اجازت کے بغیر پانی کا کنواں اور ایک دیوار تعمیر کی گئی ہے، جنہیں جلد ہی منہدم کردیا جائے گا۔
احمد صلاح نے بتایا کہ اتوار کے روز کچھ یہودی فوجی الخضر قصبے میں داخل ہوئے اور انہوں نے مقامی فلسطینی شہری محمد مرزوق زواھر کو کنواں اور140 میٹر طویل دیوار مسمار کرنے کے نوٹس حوالے کیے۔
نوٹسز میں متاثرہ شہری کو کہا گیا ہے کہ وہ فوج کے اس اقدام کے بارے میں رام اللہ کے قریب "بیت ایل” یہودی کالونی میں قائم عدالت میں اپنا اعتراض ایک ماہ کے اندر جمع کراسکتے ہیں۔ احمد صلاح نے بتایا کہ یہودی فوج اور صہیونی عدالتیں ملی بھگت کے تحت فلسطینیوں کی املاک کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ صہیونی عدالت بھی فوج کے ایماء پر فیصلہ فلسطینی شہریوں کے حق میں نہیں دے گی اور نتیجتاً فلسطینیوں کو پانی کے کنوئیں اور دیوار دونوں سے محروم کر دیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
