اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کے مشرقی علاقے ’’ھیروڈون‘‘ نامی پہاڑ کے قریبی گاؤں فردیس کی دو سو ایکڑ اراضی پر قبضے کے احکامات جاری کر دیے ہیں جس پر اس اراضی کے مالکان فلسطینی کسان سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکومت اس علاقے پر قبضہ کر کے اس جگہ کو عسکری ممنوعہ علاقہ قرار دینا چاہتی ہے۔ تاہم حالیہ صہیونی احکامات پر اہل علاقہ سخت مشتعل ہیں اور اراضی کے مالکان کسانوں نے اسرائیلی حکومت کی ہدایات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکومت اس علاقے پر قبضہ کر کے اس جگہ کو عسکری ممنوعہ علاقہ قرار دینا چاہتی ہے۔ تاہم حالیہ صہیونی احکامات پر اہل علاقہ سخت مشتعل ہیں اور اراضی کے مالکان کسانوں نے اسرائیلی حکومت کی ہدایات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
فلسطینی کسانوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کیا گیا صرف 16 ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنے کا دعوی غلط ہے۔ صہیونی حکام نے ھیرودیون پہاڑ کے پہلو میں 200 ایکڑ اراضی جس میں رومانیہ کے آثار قدیمہ بھی شامل ہیں کو ہتیھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطینیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے اس علاقے کے اطراف سکیورٹی باڑ بھی نصب کر دی ہے۔
