اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینی شہریوں کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے جنوبی گائوں بیت صفافا کے رہائشیوں کی جانب سے چھ رویہ سڑک تعمیر کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے خلاف دائر اپیل مسترد کردی۔
اسرائیلی بلدیہ کونسل نے اس ہائی وے کی تعمیر سنہ 2012 کے اواخر میں شروع کی تھی جس کے بعد اسے انتہائی تیزی سے مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بیت المقدس کی ضلعی عدالت نے ماہ فروری میں بیت صفافا کے رہائشیوں کی جانب سے سڑک کی تعمیر کے خلاف دائر پیٹیشن مسترد کردی تھی۔ اس سڑک کی تعمیر مکمل ہونے کے نتیجے میں فلسطینی گائوں دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا۔
اس کے بعد رہائشیوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس کے بعد جون میں یہ فیصلہ سامنے آیا کہ اسرائیلی بلدیہ کونسل اس سڑک کی تعمیر کے بعد سامنے آنے والی ٹرانسپورٹیشن کی مشکلات کا حل نکالیں۔
رہائشیوں نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ بلدیہ کونسل کو حکم دے کہ وہ یا تو سڑک کی تعمیر بند کردیں یا اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لئے پل تعمیر کریں تاکہ ایک علاقہ قائم رہ سکے۔
اتوار کے روز صفافا کے رہائشیوں کو بتایا گیا تھا کہ ان کی اپیل کو مسترد کردیا گیا ہے جبکہ اس سڑک کی تعمیر سے ان کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔
اس سڑک کی تعمیر سے گائوں دو حصوں میں بٹ جائے گا جس کی وجہ سے کئی خاندان ایک دوسرے سے دور ہوجائیں گے اور انہیں ملاقات کے لئے لمبا سفر کرنا پڑے گا۔
یہ سڑک مغربی کنارے میں غوش عتصیون کی یہودی بستیوں کو اسرائیلی ہائی وے نیٹ ورک سے ملاتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
