فلسطین میں اراضی اور قومی املاک کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک سماجی تنظیم نے اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان دنوں اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی سازشیں تیز کر دی ہیں۔
حالیہ کچھ روز میں اسرائیلی حکومت اور یہودی آباد کار منظم طریقے سے بیت المقدس کو یہودیت میں تبدیل کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔
تنظیم برائے "دفاع اراضی اور مزاحمت یہودی آباد کاری” کی جانب سےجاری ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ کی نسبت حالیہ چند ایام میں مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت اور یہودی آباد کاروں نے اپنی خطرناک مہمات میں تیزی سے کام سے شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں کی جانب سے مکانات کی تعمیر کے لیے دی گئی درخواستوں کی بڑی تعداد میں منظوری کے بعد انہیں بیت المقدس اور مغربی کنارے میں مکانات کی تعمیر کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت اور یہودی تنظیموں کی جانب سے مکانات کی تعمیر کے منصوبے اس کے علاوہ ہیں۔
رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے کےعلاقے وادی اردن میں ڈیڑھ ہزار ایکڑ اراضی کےغصب کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل منظم طریقے سے جس تیزی کے ساتھ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے وہ فلسطینیوں کے مستقبل اور ان کے وجود کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔

