مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "اسلامی۔ مسیحی کمیٹی برائے دفاع القدس و مقدسات” کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے بتایا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس کو یہودیانے کی غیرمعمولی مہمات شروع کر رکھی ہیں۔ ان مہمات میں مسجد اقصیٰ کی یہودی انتہا پسندوں، فوج، پولیس اور سرکاری محکموں سے وابستہ صہیونیوں کے ہاتھوں ہونے والی بے حرمتی بھی شامل ہے جس میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا ارتکاب صرف انتہا پسند یہودی آباد کار ہی نہیں کرتے بلکہ صہیونی خفیہ اداروں کے اہلکار، اہم سیاست دان اور اسرائیلی کنیسٹ کے ارکان اور وزراء بھی اس گھناؤنے کھیل میں پیش پیش ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ صہیونی فوج اور پولیس نام نہاد پروٹوکول اور سیکیورٹی کی آڑ میں ہر وقت قبلہ اول کو اپنے حصار میں لیے رکھتی ہے۔
ڈاکٹر عیسیٰ نے بتایا کہ دو روز قبل یہودی آباد کاروں نے قدیم بیت المقدس کے باب الاسباط کے قریب مسلمانوں کے ایک قبرستان کی بھی بے حرمتی کی۔ یوسفیہ قبرستان کی کئی قبروں کی توڑ پھوڑ کی گئی۔
فلسطینی سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج اور پولیس نے بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روز مرہ کی بنیاد پر قابض فوج اور پولیس کے سیکڑوں اہلکار چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں اور معصوم شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو زدو کوب کرنے کے ساتھ مرد حضرات کو گرفتار کر کے لے جاتے ہیں۔
گذشتہ جون کے بعد سے مسجد اقصیٰ کے گردو پیش سے 500 فلسطینیوں کو حراست میں لے کر جیلوں میں ٹھونسا گیا۔ انہوں نے بیت المقدس میں موجود مقدس مقامات کی بے حرمتی اور قابض فوج کے ہاتھوں نہتے شہریوں کی مسلسل گرفتاریوں اور تشدد کی روک تھام کے لیے عالمی برادری سے فوری مدد کا بھی مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر عیسیٰ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں قابض اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے تعمیر کا کام بھی تیز کر دیا ہے اور جگہ جگہ توسیع سرگرمیاں جاری ہیں
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
