اسرائیلی حکومت نے خفیہ طورپر مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے تاریخی قبرستان”مامن اللہ” کے غصب شدہ حصے پر ایک ہوٹل، کئی دکانیں،ریئل اسٹیٹ کے دفاتر اور سیاحتی پارک بنانے کےایک نئے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار”معاریف” نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبر دی ہے کہ تل ابیب انتظامیہ نے مامن اللہ قبرستان کے جنوب وسطی حصے پر ایک بڑے ہوٹل، دکانوں اور تجارتی مراکز کی تعمیر، سیاحتی پارک اور ریئل اسٹیٹ کے دفاتر کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت خزانہ نے75 ہزار امریکی ڈالرز کا ابتدائی فنڈ بھی تعمیراتی کمپنی "عیدن” کو جاری کردیا ہے، جو جلد ہی پروجیکٹ پر کام کا آغاز کرنے والی ہے۔
دوسری جانب فلسطین میں مقدس مقامات کی دیکھ بحال کی ذمہ دار تنظیم”الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” نے اسرائیل کے مامن اللہ قبرستان پر تعمیراتی منصوبوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں اقصیٰ فاؤنڈیشن کہا ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان پرہوٹلوں اور تجارتی مراکز کا قیام آسمانی مذہب کی تعلیمات کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ قبرستان کو اس طرح کے مذموم مقاصد کے لیے کسی صورت میں استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "مامن اللہ” قبرستان فلسطین میں مسلمانوں کا قدیم ترین قبرستان ہے جہاں کئی صحابہ کرام، تابعین اور ہزاروں مسلمان آسودہ خاک ہیں۔ خیال رہے کہ مامن اللہ قبرستان پچھلے کئی سال سے صہیونی حکومت کی سازشوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ قابض ریاست نے نہ صرف مسلمانوں کو اپنے مُردوں کو وہاں دفن کرنے سے روک دیا ہے بلکہ تاریخی قبرستان کے ایک بڑے حصے کو بلڈوز کرکے اس پر ایک میوزیم بھی تعمیر کیا جا چکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
