رپورٹ کے مطابق جبل المکبر کے مقام پرطلباء کی ایک ریلی پر قابض فوجیوں نے فائرنگ، آنسوگیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں درجنوں شہری زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز کتبے اور شہداء کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ صہیونی فوج کے قبضے میں لیے گئے شہداء کے جسد خاکی ان کے ورثاء کے حوالے کرنے کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔
خیال رہے کہ پچھلے سال اکتوبر کے بعد سے اب تک صہیونی فوجیوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں دسیوں فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد ان کے جسد خاکی بھی قبضے میں لے لیے تھے۔ ان میں سے بعض شہداء کے جسد خاکی ان کے ورثاء کے حوالے کیے گئے ہیں جب کہ دیگر شہیدوں کی میتیں صہیونی فوج کے قبضے میں ہیں۔ شہداء کے لواحقین اپنے پیاروں کی میتوں کو اپنے ہاتھوں سے تدفین کے لیے بے تاب ہیں مگر قابض انتظامیہ شہداء کے جسد خاکی کو روک کرانہیں دوہری آزمائش میں رکھنے کی سازش کررہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا کہ جمعرات کو بیت المقدس میں ہونے والی طلباء ریلی پرصہیونی فوجیوں نے وحشیانہ تشدد کیا، تشدد کے نتیجے میں کئی طلباء زخمی ہوئے، قابض فوج اور پولیس کی جانب سے طلباء پر آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی اوران پر ربڑ کی گولیاں چلائیں جسکے نتیجے میں بڑی تعداد میں طلباء اور عام شہری زخمی ہوئے۔
