فائونڈیشن برائے ترقی بیت المقدس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت مقبوضہ بیت المقدس میں صیہونی منصوبوں میں تیزی لانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت میئر نئیر برکات کی سربراہی میں فلسطینی گھروں کی مسماری کی مذموم مہم زوروشور سے چلا رہی ہے۔
فائونڈیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ،”قابض حکام مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستیوں اور صیہونی منصوبوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو نافذ کرنے اور ایک نئی حقیقت کو مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اسلامی اور عرب تاریخی مقامات کو بدل دیا جائے۔تنظیم نے خبردار کیا کہ قابض حکام فلسطینی زمینوں اور املاک پر قبضے اور سینکڑوں فلسطینی باشندوں کو جبری بے دخل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قابض حکام صیہونی منصوبوں کا ایک سلسلہ نافذ کرنے کی تیاری کررہے تاکہ بیت المقدس شہر کو صیہونی ریاست کا "ابدی دارالحکومت” بنا دیا جائے۔ تنظیم نے مسلمان اور عرب دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ بیت المقدس کی حمایت میں فوری طور پر اقدامات شروع کرے اور اسے صیہونی رنگ میں رنگنے کی کوششوں سے بچائے۔
فائونڈیشن نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر داخلہ جدعون ساعر نے فیصلہ کیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں سینکڑوں نئے ہائوسنگ یونٹس اور مسجد اقصٰی کے جنوب میں ایک بڑے صیہونی سنٹر کی تعمیر کی منظوری دے دی جائے جبکہ اس کے علاوہ اقصٰی کے شمال میں موجود جبل المشرف کی ڈھلوانوں پر اور قدیم بیت المقدس میں تورات کے باغات قائم کئے جائیں گے۔
بیت المقدس فائونڈیشن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی بلدیہ نے مئیر نئیر برکات کی سربراہی میں پچھلے دو دنوں کے دوران شہر کے شمال میں موجود بیت حنینہ قصبے دو رہائشی عمارات کو تباہ کردیا ہے جس سے کئی درجن عرب باشندے بے گھر ہوگئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس جنونی مہم کی وجہ سے مزید سینکڑوں عمارات اور گھر مسماری کے خطرے کا سامنا کررہے ہیں جس سے ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوجائیں گے۔
