اسرائیلی فوج نے جزیرہ نما النقب میں واقع جیل میں قید بھوک ہڑتالی فلسطینی نوجوان کی ہڑتال ختم کرانے کے لیے اسے مغربی کنارے کے رام اللہ شہر میں قائم "عوفر” جیل میں منتقل کردیا گیا ہے
جہاں اسے ایک قبر نما تنگ وتاریک کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھوک ہڑتالی قیدی سلیمان سکافی کو قید تنہائی میں ڈالے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حکام سے قید کی تنہائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم "اسیران اسٹڈی سینٹر” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 30 سالہ سلیمان سکافی کا آبائی تعلق غرب اردن کے الخلیل شہر سے ہے۔ اسے 12 نومبر 2014 ء کو گرفتار کیا گیا تھا جہاں اسے متعدد مرتبہ انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی حکام نے اس کی انتظامی قید میں مزید توسیع کی تھی جس کے خلاف بہ طور احتجاج اس نے بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔
قیدی کی بھوک ہڑتال ختم کرنے اور اسے دبائو میں لانے کے لیے سلیمانی سکافی کو جزیرہ نما النقب کی جیل سے عوفر قید خانے کی ایک تنگ وتاریک کوٹھڑی میں ڈال دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے بھوک ہڑتالی فلسطینی کو قید تنہائی میں ڈالے جانے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے غیرقانونی اور عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت چھ ہزار سے زائد فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں پانچ سو کے قریب فلسطینیوں کو بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں عدالت میں پیش کیے بغیر انتظامی حراست کی توسیع جیسے غیرقانوی ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
