فلسطینی اتھارٹی کی جیل میں زیرحراست ایک سیاسی کارکن انس جاد اللہ نے اپنی بلا جواز اسیری کےخلاف اتوارکے روز سے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے نوجوان رہ نما انس جاد اللہ کو عباس ملیشیا نے حال ہی میں مغربی کنارے میں حماس کےخلاف کریک ڈاؤن کی شرمناک مہم کے دوران حراست میں لیا تھا۔ گذشتہ جمعرات کے روز گرفتار کیے گئے دیگر رہ نماؤں کو رہا کردیا گیا تھا تاہم انس تاحال فلسطینی اتھارٹی کی نابلس میں قائم جنید جیل میں پابند سلاسل ہیں اور انہیں بغیر کسی مقدمہ کے حراست میں رکھا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جنید جیل میں زیرحراست انس جاداللہ نے فلسطینی انتظامیہ پرواضح کیا ہے کہ اسے بتایا جائے کس جرم کی پاداش میں اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیا ہے۔ کیا وہ فلسطینی انتظامیہ کے لیے کوئی خطرہ تھا تو اس جرم کی پاداش میں اسے بغیر کسی الزام کے جیل میں بند کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں درجنوں افراد کو مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق کے الزام میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان میں بڑی تعداد اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے کارکنوں کی ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان بھی عباس ملیشیا کی جیلوں میں قید ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
