اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے تازہ انکشاف کے مطابق صہیونی حکومت نے مسجد اقصی کی دیوار براق سے متصل براق صحن کی توسیع کا منصوبہ تشکیل دے دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد امریکی یہودیوں اور انتہاء پسند یہودیوں کے درمیان مردوعورت کے اختلاط پر موجود اختلاف کو ختم کرنا ہے۔
اسرائیلی روزنامے ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کا کہنا ہے کہ اس نئے منصوبے کے تحت صحن میں سیکڑوں میٹر توسیع کردی جائے گی۔ براق صحن کے شمالی حصے کو ’’قوس رابن سن‘‘ کے مقام سے ملا دیا جائے گا، اس طرح براق صحن کو تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا، پہلا حصہ صرف مردوں کے لیے دوسرا، دوسرا عورتوں کے لیے اور تیسرے حصہ غیر ملکی یہودیوں کے مطالبے کے مطابق مردوزن کے لیے مخصوص کردیا جائے گا۔
یہ منصوبہ یہودی ایجنسی کے سربراہ نٹان شرانسکی نے پیش کیا ہے جس کا مقصد یہودیوں کے درمیان اختلافات کا حل نکالنا ہے۔ وہ اپنی تجاویز جلد ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کو پیش کردیں گے۔ اس منصوبے کی ابتدائی شکل پر انتہاء پسند یہودیوں اور غیر ملکی یہودیوں نے بھی تصدیق کردی ہے۔
ہالیان القدس نے امت مسلمہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے پہلے ہی براق صحن میں کھدائیاں شروع کر رکھی ہیں، ان کھدائیوں کا مقصد یہودی مذہبی مرکز ’’بیت شتراوس‘‘ کی تعمیر ہے۔
سجد اقصی کے خطیب اور فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین نے بھی براق صحن میں جاری کھدائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ قبلہ اول مسجد اقصی سے متصل یہ صحن اسلامی اوقاف کا حصہ ہے، اسرائیلی اسلامی اوقاف کی املاک پر قبضے کی مسلسل کوششوں می مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے براق صحن میں جاری کھدائیاں اور اس صحن کی توسیع کا منصوبہ انتہائی خطرناک ہے، صہیونی حکام مسجد اقصی کو یہودی مذہبی شعائر کے گھیرے میں لے رہے ہیں تاکہ مسجد کو شہید کرنے کا راستہ صاف ہو جائے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
