اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران یہودی بستیوں کی توسیع کے نام پر آٹھ ہزار ایک فلسطینی اراضی ہتھیا لی ہے۔ خیال رہے کہ یہ مسافت سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین میں تل ابیب کے قریبی شہر ”بات ۔یام” کے برابر ہے۔
ذرائع کے مطابق یہودی بستیوں کی توسیع کے یہ تمام منصوبے اسرائیلی وسطی علاقوں کی عسکری قیادت کے احکامات پر تشکیل دیے گئے تھے۔ اسرائیلی روزنامے ”ھارٹز” میں شائع ایک رپورٹ اس اسرائیلی منصوبے کی تفصیلات بتائی گئیں ہیں، رپورٹ میں صہیونی سول انتظامیہ کے 2011ء اور 2012ء کے نقشے کے موازنہ کیا گیا ہے۔ ان دونوں نقشوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی بستیوں کا حجم 530931 ایکڑ سے بڑھ کر 538303 ایکڑ ہوگیا ہے۔
یہودی بستیوں کے حجم میں یہ اضافہ دو طرح کا ہے پہلا تو وہ آبادیاں ہیں جو بالکل نئی ہیں اور دوسرا بلیو لائنز میں رد و عمل کے ذریعے سے ہے۔ بلیو لائن یہودی بستیوں کی اراضی کو ریاستی اراضی سے الگ کرنے کے لیے کھینچی گئی لائن ہے۔
روزنامے میں شائع تفصیلات کے مطابق یہودی بستی ”معالیہ ادومیم میں 250 ایکڑ کی توسیع کی گئی۔ یہودی بستی ”کدومیم” میں انڈسٹریل ایریا ”براون” شامل کرنے کے بعد اس کی حدود میں 1010 ایکڑ کا اضافہ ہوگیا۔ ادھر ”میجرون” آبادی سے نکالے جانے والے یہودیوں کو یہودی بستی ”کوخاب یعقوب” میں رہائش دی گئی جس سے اس یہودی بستی نے بھی مزید 66 ایکڑ زمین کو نگل لیا ہے۔
”رحالیم” بستی کے چاروں اطراف توسیعی منصوبہ جاری رہا جس سے اس بستی کے رقبے میں 944 ایکڑ کا اضافہ ہوا۔ ”برکان” یہودی بستی میں 714، ”الکنا” میں 904 اور ”کرنی شومرون” میں 300 ایکڑ اضافی اراضی شامل کردی گئی۔
اسی ضمن میں سرحدوں میں رد عمل کرکے بہت سی فلسطینی اراضی کو یہودی بستیوں میں شامل کیا گیا ہے۔ جس میں ”ایتمار” اور ”شیلو” نامی دو یہودی بستیوں میں سے ہر ایک کو مزید 600 ایکڑ اراضی دی گئی ہے۔ ”بیت ایل” یہودی بستی میں 300 ایکڑ شامل کردیے گئے۔
روزنامے کے مطابق عیلی زھاف، جبل ابو غنیم، بیتار عیلیت، معالی عاموس، بنی حفیر، آلکنا، شعاری تکفا اور سدومات محولا یہودی بستیوں کو سرحدوں میں معمولی رد و بدل کرکے مزید فلسطینی اراضی سے نوازا گیا ہے۔
بشکیریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
