فلسطینی محکمہ برقیات و قومی وسائل نے غزہ میں بجلی گھر مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد غزہ کو بجلی فراہم کرنےوالا مرکزی اور سب سے بڑا ذریعہ بند ہو گیا، اور غزہ میں بجلی کی نعمت سے فیض یاب ہونے والوں کی شرح پینتیس فیصد رہ گئی ہے۔
محکمہ برقیات کے شعبہ اطلاعات کے ڈائریکٹر انجینئیر احمد ابو العمرین نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس پاور اسٹیشن کے بند ہونے کا مطلب غزہ کو اندھیروں میں ڈبو دینا ہے۔ بجلی کی بندش سے غزہ میں کے ہسپتالوں اور مراکز صحت سمیت ہر محکمے میں بحران آجائے گا۔ پانی کے پمپس بند ہو جانے سے سارا غزہ پانی سےمحروم ہو جائے گا اور پورے غزہ میں بڑے انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ احمد ابو العمرین نے بتایا کہ غزہ میں ایندھن کی سپلائی کی بندش کی وجہ سے محکمہ برقیات کو بجلی کی پیدائش روکنا پڑی ہے۔
بجلی کے اس بحران کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے ابوالعمیرین نے اول ذمہ دار اسرائیلی حکومت کو ٹھہرایا، تاہم انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کو مصائب کا ذمہ دار قرار دینے کا ساتھ ساتھ اپنے مصری بھائیوں سے بھی یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ غزہ آنے والے واحد راستے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے لیےایندھن فراہم کرے۔
اس موقع پر ابو العمرین نے ساری عرب اور اسلامی دنیا سےمطالبہ کیا کہ وہ اہل غزہ کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے بجلی کے پیدائش کے لیے ضروری ایندھن کی غزہ ترسیل میں بڑھ چڑھ کا حصہ لے۔ انہوں نے فلسطینی قوم سے بھی عزم وثبات کا مظاہرہ کرنے کا کہا۔ ابو العمرین کا کہنا تھا کہ وہ بجلی کی بندش کے اس بحران کو حل کرنے کے لیے تمام فلسطینی حلقوں سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر مصری حلقوں سے بھی غزہ کو ایندھن فراہم کرکے فلسطینیوں کو اس بحران سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مصری حکومت کو فلسطینیوں کی مدد کر کے امت مسلمہ میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات غزہ میں آنے والا تیل غزہ کی بجلی کی آدھے دن کی ضرورت کے لیے بھی ناکافی تھا۔ انہوں نے اپنے اس عزم کااظہار بھی کیا کہ وہ تیل کے آخری لٹر تک بجلی کی تیاری جاری رکھیں گے اور اس ضمن میں کسی کوتاہی کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا۔

