مغربی کنارے کے شہر جنین سے تعلق رکھنے والے علیل قیدی عبدالجبار شمالی کے اہل خانہ نے انسانی حقوق کی انجمنوں اور ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز سے اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لئے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
عبدالجبار شمالی کے اہل خانہ نے اسیران اسٹڈی سینٹر ‘احرار’ کو بتایا کہ چونتیس سالہ مریض قیدی کی کمر میں شدید درد ہے، جس کے علاج کی خاطر اس کا فوری آپریشن ضروری ہے تاہم اسرائیلی جیل انتظامیہ اس کی اجازت دینے سے انکاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گلے کی خرابی سے اسیر عبدالجبار کی قوت گویائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مناسب اور ضروری علاج کی سہولت نہ ہونے کے باعث نوجوان قیدی کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔
احرار سنٹر کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شمالی کی صحت اس کے گرفتار ہونے سے پہلے بالکل ٹھیک تھی۔ تاہم اسرائیلی حراست میں رہنے کے باعث وہ صحت کے متعدد مسائل میں مبتلہ ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ 3 سرطان کے مریض سمیت اسرائیل کی ایشل جیل میں 30 بیمار فلسطینی اسیر قید ہیں۔ یہ تمام قیدی علاج کے معاملے میں تجاہل عارفانہ کی اسرائیلی پالیسی کی وجہ سے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
عبدالجبار شمالی کو باغیانہ کارروائی میں شرکت کے الزام میں جون دو ہزار گیارہ میں ستائیس برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
