مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی تحریک کے نائب امیر الشیخ کمال الخطیب نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل میں سترہ مارچ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات اور ان میں انتہا پسند سیاسی جماعتوں کی کامیابی سے یہ اندازہ لگا لینا چاہیے کہ اسرائیل کس طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کی کامیابی مقبوضہ بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی پالیسیوں کو سخت کرنے کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔
ایک سوال کے جواب میں الشیخ کمال الخطیب کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نیتن یاھو اپنی انتخابی فتح کو بیت المقدس کے حوالے سے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا ابدی دارالحکومت بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور دن رات اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مصروف ہیں۔ اس لیے آنے والا وقت زیادہ سخت اور مشکل دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی انتخابات میں انتہا پسند لوگوں کی کامیابی نے قبلہ اول کےخلاف صہیونی سازشوں کو آگے بڑھانے کا ایک نیا موقع فراہم کیا ہے۔ اسرائیل جس منظم انداز میں اب قبلہ اول کے خلاف سازشیں کررہا ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسرائیل میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پر دھاوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ میں مسجد اقصیٰ میں نعرہ تکبیر لگانے والے کو 12 ہزار ڈالر تک جرمانہ کرنے کی سفارش کی جانے لگی ہے۔
الشیخ کما الخطیب کاکہنا تھا کہ موجودہ حالات میں فلسطینیوں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ فلسطینی عوام پہلےسے بڑھ کر قبلہ اول اور بیت المقدس کےدفاع کے لیے میدان میں اتریں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
