مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعرات کے روز وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی زیرصدارت کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں فلسطینی اتھارٹی کےاقدام پر جوابی کارروائی پر غور کیا گیا۔
اسرائیل کے پبلک ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں وزیردفاع موشے یعلون، ڈائریکٹر جنرل برائے امور خارجہ نسیم بن شطریت کے علاوہ سیکیورٹی اور جوڈیشل حکام بھی شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین کو بوجوہ مدعو نہیں کیا گیا۔ تاہم ان کی عدم موجودگی کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
اسرائیلی ریڈیو نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم جلد ہی کابینہ اور سیکیورٹی و اقتصادی کمیٹی کے سامنے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کئے جانے کے رد عمل میں اپنے فیصلے پیش کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو اور وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین کے درمیان اختلافات پائے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں دونوں نے ایک دوسرے پر کڑی تنقید کی ہے۔ وزیرخارجہ نے الزام عاید کیا ہے کہ نیتن یاھو خود ہی مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید الجھا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے بدھ کے روز عالمی عدالت انصاف کے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے عالمی عدالت میں فلسطین کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔ اس پر امریکا اور اسرائیل نے شدید رد عمل کا اظہار کیاتھا۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی فوج داری عدالت سے ہمیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ آئی سی سی سے خوف زدہ فلسطینی اتھارٹی کو ہونا چاہیے جس نے حماس جیسی دہشت گرد تنظیم کو شریک اقتدار کررکھا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
