فلسطین کی منظم مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی قیادت نوسال کی جلاوطنی ختم کر کے ایک مربتہ پھراردن پہنچ گئی ہے۔ حماس کے سیاسی شعبے کے صدر خالدمشعل کا کہنا ہے کہ اردن کی قومی سلامتی اور مفادات حماس کے مفادات ہیں، ان پرآنچ نہیں آنے دیں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق خالد مشعل نے ان خیالاتکا اظہار اتوارکو عمان میں شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں وہ دوحہ سے قطر کے ولی عہد شہزادہ تمیم بن حمد آل ثانی کے ہمراہ عمان پہنچے جہاں انہوں نے اردن کے فرمانرواشاہ عبداللہ دوم کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔
خالد مشعل نے شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطین۔ اردن تعلقات کی یکجہتی پر یقین رکھتے ہیں،ان کی اردن آمد عمان اور حماس کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ حماس اردن کی قومی سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کی خواہاں ہے۔
خالد مشعل کاکہنا تھا کہ ان کی جماعت اردن کے امن واستحکام اور مفادات کو اپنے مفادات سمجھتی ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے ۔ حماس اور اردن کےدرمیان سیاسی تعلقات ایک اثاثہ ہیں وہ ان کا احترام کریں گے اور باہمی رضامندی کے اصول کے تحت اردن کے ساتھ سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔
حماس رہ نمانے اردن کو فلسطینیوں کے لیے ایک متبادل وطن قرار دینے کے تمام منصوبوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس فلسطینی عوام کے حقوق کی جنگ ہر محاذ پرلڑے گی اور قوم کے تمام جائز مطالبات اور حقوق میں سے کسی ایک حق پربھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اردن اردنی عوام کا وطن ہے اور فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ فلسطینیوں کواردن میں آباد کرنے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
قبل ازیں اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے بھی فلسطینیوں کے حق خود ارادیت سمیت تمام حقوق کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو سنہ 1967ء کی جنگ سے ماقبل والی پوزیشن پر چلے جانا چاہیے،سنہ ستاسٹھ کی جنگ کے بعد قبضے میں لیے گئے مقبوضہ عرب علاقوں پر اردن آزادفلسطینی ریاست کی حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے فلسطین اور اسرائیل پرزور دیا کہ وہ مذاکرات کےذریعے باہمی تنازعات کا حل تلاش کریں۔
قبل ازیں حماس کے لیڈر خالد مشعل اورقطری ولی عہد شہزادہ تمیم بن حمد آل ثانی نے حماس اوراردن کے درمیان تعلقات کے نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ بات چیت کی۔یہ ملاقات کوئی ڈیڑھ گھنٹے پر محیط رہی جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ، مسئلہ فلسطین اور خطے کی مجموعی صورت حال پر بات تبادلہ خیال کیا گیا۔
خیال رہے کہ حماس کی قیادت جس میں تنظیم کے سیاسی شعبے کے موجودہ سربراہ خالد مشعل بھی شامل ہیں کو اردن حکومت نے سنہ 1999ء میں جلا وطن کر دیا تھا، جس کے بعد حماس کی قیادت نے شام کے دارالحکومت دمشق کو اپنی بیرون ملک سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔

