انتہاپسند یہودی خواتین کی تنظیم ریڈ ٹینٹ تحریک نے مطالبہ کیا ہے کہ یہودی خواتین مسجد الاقصٰی میں زبردستی داخل ہوجائیں اور وہاں پر تلمودی رسومات ادا کریں۔
اس تحریک نے اعلان کیا ہے کہ وہ روزانہ مسجد پر دھاوا بولا کرے گی اور اس نے یہودی خواتین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ تلمودی رسومات کی ادائیگی کے لئے جایا کریں۔ انہوں نے مردوں اور بچوں سے بھی کہا کہ وہ ان رسومات میں حصہ لیا کریں تاکہ شرکاء کی تعداد بڑھ سکے۔
اسی تناظر میں یہودی آبادکاروں کے ایک گروہ نے اسرائیلی فوج کی بھاری نفری کی حفاظت میں مسجد الاقصٰی پر دھاوا بول دیا۔
اسی موقع پر وزارت اوقاف اور مذہبی امور کے وزیر ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے مسجد اقصٰی کے نواحی علاقے میں یہودی بستی کی تعمیر کے اسرائیلی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصٰی میں بڑھتی کارروائیاں دنیائے عرب کے اپنے اندرونی معاملات میں مصروفیت کا شاخسانہ ہے۔
رضوان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد اقصٰی کے دفاع کی خاطر مسلح مزاحمت کو دوبارہ شروع کیا جائے اور اسرائیلی حکام سے سیکیورٹی تعاون ختم کیا جائے۔ انہوں نے مسجد اقصٰی کے خلاف ہونے والے اسرائیلی جرائم پر عالم اسلام اور عرب کی جانب سے ایک متفقہ موقف کا مطالبہ کیا۔
