مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق دو ماہ سے بھوک ہڑتال اور خالی معدے کے ساتھ اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والے بیشتر فلسطینی خرابی صحت کے بعد اسپتالوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔ اسپتالوں میں وہ معمولی دوائی اور پانی کے سوا اور کچھ چیز لینے سے انکار کر رہے ہیں۔
فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال ایک ایسے وقت میں جاری ہے صہیونی فوج کی جانب سے مغربی کنارے میں نہتے شہریوں کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔ ایک ہفتے سے جاری کریک ڈاؤن میں کم سے کم 350 فلسطینی حراست میں لیے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کریک ڈاؤن کے نتیجے میں انتظامی حراست میں لیے جانے والے اسیران کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت دھونس اور دباؤ کے ذریعے بھوک ہڑتالی اسیران سے ہڑتال ختم کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔
