اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خصوصی مندوب رون بروسر نے ادارے کی فلسطینی پناہ گزینوں کی دیکھ بحال کے لیے سرگرم ایجنسی ”اونروا” پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن عمل میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
مسٹر بروسر کا کہنا ہے کہ "اونروا” کی جانب سے فلسطینیوں کے حق واپسی کے وعدے پر عمل درآمد کی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں اور ان کے مطالبات کی مبالغہ آمیز حد تک ترویج کی جاتی ہے۔ اسرائیل کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کا کردار قابل قبول نہیں ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق نیویارک میں یہودی تنظیموں "امسکا” کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر رون بروسر کا کہنا تھا کہ اونروا کا ایک مشن رواں سال تیس جون کو مکمل ہو رہا ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اقوام متحدہ اس دارے کو تحلیل کردے کیونکہ یہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان قیام امن کی مساعی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اونروا جن مقاصد کے لیے قائم کیا گیا وہ خود ہی ان اصولوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان دوہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ فلسطینی قیادت کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ فلسطینی مہاجرین کا حق واپسی یقینی ہے اور اقوام متحدہ پناہ گزینوں کو کسی دوسرے ملک میں آباد نہیں کرائے گی بلکہ تمام فلسطینیوں کو ان وطن میں لایا جائے گا۔
اسرائیل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی سنہ 1949 ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد بڑھانے کی ذمہ دار ہے۔ یہودی گروپوں کا بھی یہ کہنا ہے کہ سنہ 1949 ء میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد چند سو تھی جو اب پانچ ملین سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس میں اونروا کا بھی مرکزی کردار ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
