مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جون کربی نے بتایا کہ "واشنگٹن اسرائیل کے اس فیصلے کی مسلسل مانیٹرنگ کررہا ہے جس کے تحت الخلیل کے مضافاتی قصبے "سوسیا” میں فلسطینیوں کے تمام مکانات کو غیرقانونی قرار دے کر انہیں مسمار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے”۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے "سوسیا” قصبے کی مسماری کے اسرائیلی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے تل ابیب کو بتا دیا ہے کہ گائوں کو مسمار کرنا عالمی قوانین کے خلاف ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فلسطینی بچے اور عورتیں بے گھر ہوجائیں گے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ "سوسیا” قصبے میں فلسطینیوں کے تعمیر کردہ 50 مکانات،ایک اسکول، مسجد اور کئی دکانوں کو مسمار کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ کسی بھی وقت انہدامی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔
سوسیا قصبے میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسمار کا یہ پہلا فیصلہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی کئی بار اس قصبے میں فلسطینیوں کے مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں۔ اس قصبے کی کل آبادی 350 نفوس پر مشتمل ہے۔ مکانات مسماری کی صورت میں یہ سیکڑوں فلسطینی متاثر ہو سکتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
