اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہودی بستی ’’مطیہ بنیامین‘‘کی مقامی کمیٹی نے مقبوضہ بیت المقدس کے گاؤں عناتا کی 218 ایکڑ اراضی پر ایک یہودی ثقافتی گاؤں تعمیر کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
اسرائیلی روزنامے ’’ھارٹس‘‘ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی شہری انتظامیہ نے گاؤں کی تعمیر کے لیے نقشہ منظور کر لیا ہے۔ یہ گاؤں یہودی بستی ’’کفار ادومیم‘‘ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اس گاؤں کی تعمیر کے لیے عرب بدووں کے ایک اسکول کو بھی منہدم کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کی منظوری کے لیے سول اتھارٹی پر یہودی آباد کاروں کا شدید دباؤ تھا، انتہا پسند یہودی خاص طور پر اس اسکول اور علاقے میں موجود گھروں اور خیموں کو منہدم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
فلسطینی گاؤں عناتا کے دو وکیلوں کامل ناطور اور حسام یونس نے بتایا کہ اس یہودی ثقافتی گاؤں کا مقصد فلسطینیوں کی اراضی کو ہتھیانا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
